احوالِ قید خانہ

نہ جانے کب سے اپنی ذات کے کمرے میں بند ہوں میں اسی کمرے کے فرنیچر سے اب تو آشنائی ہے پرانی میز کے قصے درودیوار کی باتیں زبانی یاد ہیں مجھ کو بوسیدہ کھڑکیوں میں ناچتے ہیں دھول کے جو رنگ وہی اب ہمسفر ہیں اور انہی سے رازداری ہے یہاں خواہش کا تیل…

پاگل پن اور ریلیٹیوٹی؛ ایک تجزیہ اور چند سوال

آج ہر جانب عجیب سی خاموشی هے. میں پچھلے ایک گھنٹے سے کمرے کے گھُپ اندھیرے میں بڑی دِقت سے نظر آنے والے روشنی کے مدھم سے نشان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھُور رہی ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے یہ بھی علم ہے کہ میرا دماغ اس وقت یہاں میرے پاس موجود نہیں…

تیریاں یاداں، تیرے ویڑھے

باغ اُجڑ گیا دل دا میرے چَھتاں چووَن لَگ پیِیاں نے جان توں پیارے ہَسدے وَسدے کار دِیاں ویڑھے لگیا رُکھ وی جیویں رات دوپہری روندا لگدا چَھڈ کے ٹُر جاوَن والے نوں کویٔ اے گَل دسّے جا کے شام و شامِیں چولہے وِچ اَگ بَلدی اے تے نال اے بَلدا دِل وی میرا ویلے…

End of Misery; The Final Chapter

19th November 2019: It’s 8 in the afternoon and I’m standing in the frontyard of my grandparent’s house located right in the middle of a beautiful valley which is half asleep by this time. I recall the noise of the city where I came from, the city that never sleeps. It is actually amazing how…

Time & Bewilderment

7am: The city is already awake. I can see fruit vendors setting their stalls, shopkeepers lifting the shutters of their tiny shops in the market, children dressed in school uniform running to catch their school vans, the usual hustle of almost every big city in the world. As I am pondering over how life is…

ایک لمحے میں سمٹ آیا صدیوں کا سفر..

رات کے نو بج رہے ہیں۔ رات کی تاریکی اور سناٹے کو کسی تیز دھار آرے کی طرح چِیرتی ہوئی، اونچے نیچے پہاڑوں کے درمیان ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑی کے شیشے سے سَر ٹِکاۓ میں اس وقت آسمان کو دیکھ رہی ہوں۔ گاڑی میں لگے پُرانے ریڈیو پر کوئی اُس سے بھی پُرانا ہِندی نغمہ…

میرے وقت، میرے دوست

  تُم اور میں قطره قطره سَر اُٹهاتی اُداسی اور اندهیری رات اور اِس اندهیرے میں جگمگاتا ہوا ایک سوال ایک سوال اور اُس کی گُونج ہم اپنی کهوکهلی تنہائی کا ماتم کرنے کونسی راه مُڑیں کِس کا دَر کهٹکهٹائیں کیسے پہنچائیں سِسکیوں کی پُکار اِن دیواروں کے پار اِن خون آلود دیواروں کے شکنجے…

The ‘Inappropriate’ Rant

‘Why?’ Everyday someone says something so unbelievable in this society that this is the only word that comes up in my mind. Before I get to the point, I would really like to share my inspiration behind gathering the time and energy to write this article and that too about something that shouldn’t have been…

بچپن کے نام

گلی محلوں میں بهاگ پِهرتے کَٹی پتنگوں کا پیچها کرتے چلے کہاں سے، کہاں کهڑے ہیں یہ لمحوں لمحوں میں کیا ہوا ہے، یہ کیسا الجهن کا سلسلہ ہے کہ ان پتنگوں کے رنگ آ کر خموش نغموں میں گونجتے ہیں ہو جیسے ساون میں رقص کرتے گُلوں پہ قوسِ قزح کا پہرا گنگناتی ہوا…